غزل: تیری یادوں کا سفر (حرفِ روحؔ)
غزل
تیری یادوں کا سفر دل میں یونہی چلتا رہا
رات ڈھلتی ہی رہی، درد مگر پلتا ہی رہا
میں نے چاہا کہ بھلا دوں تجھے ہر بار مگر
تیرا چہرہ مری آنکھوں میں ابھرتا رہا
وہ جو بچھڑا تو مرے دل میں خلا چھوڑ گیا
میں بھرے شہر میں بھی خود سے بہت تنہا رہا
اشک آنکھوں میں چھپائے ہوئے ہنستا ہی رہا
اپنے زخموں کو زمانے سے میں چھپاتا رہا
عشق دریا بھی تھا، صحرا بھی، سمجھ آیا نہ کچھ
میں بھی پیاسا ہی رہا، دل بھی بھٹکتا رہا
جس کو اپنوں کی طرح چاہا تھا عمر بھر میں نے
وہ مرے درد پہ خاموش تماشائی رہا
حرفِ روحؔ دل نے سیکھا ہی نہیں ترکِ وفا
زخم ملتے ہی رہے، عشق مگر زندہ رہا
حرفِ روحؔ اس کی دعا کرتا ہے آج بھی
جو مری روح میں خوشبو کی طرح بستا رہا
عشق میں فنا ہونا ہی بقا کا پہلا زینہ ہے، کیونکہ جب تک انا (میں) باقی ہے، 💕 تب تک روح کی پرواز ادھوری ہے۔
~ حرفِ روح ~

Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ براہ کرم کہانی کے بارے میں اپنے تاثرات ضرور شیئر کریں! (اسپیم لنکس سے پرہیز کریں)"